About Us / ہمارے بارے میں
ایم ایم آسی — ایک ادبی اور فکری سفر

مصنف کے بارے میں
ایم ایم آسی، جن کا نام اردو ادب میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے، 7 فروری 1949ء کو میرپور آزاد کشمیر کے گاؤں فتح پور میں پیدا ہوئے۔ یہ گاؤں بعد میں منگلا ڈیم کے زیر آب آ گیا۔ ایک چھوٹے سے گاؤں سے بین الاقوامی ادبی دنیا تک کا یہ سفر عزم، محنت اور ادب سے گہری محبت کی داستان ہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
ابتدائی تعلیم ماڈل مڈل اسکول جھنگ سے حاصل کی، جبکہ 1966ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول میرپور سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ تعلیم کے بعد عملی زندگی کا آغاز کیا، مگر دل میں ادب اور عوامی خدمت کا جذبہ ہمیشہ زندہ رہا۔
سرحدوں کے پار کا سفر
ء 1985میں امریکہ ہجرت کی، مگر اپنے کلچر، زبان اور روایات سے تعلق کبھی کم نہ کیا۔ امریکہ میں بھی اردو ادب کی ترویج، کمیونٹی سروس کے کاموں میں سرگرم رہے۔

25+
35K
Readers across the world
5+
Published Books

ادبی تخلیقات
ایم ایم آسی کی کتابیں انسانی جذبات، معاشرتی حقیقتوں اور ذاتی تجربات کی خوبصورت عکاسی کرتی ہیں۔ آپ کی نمایاں تصانیف میں شامل ہیں:
سنہری جال—محبت، زندگی اور خوابوں کی کہانی۔
میرپور جو ڈوب گیا—ایک ڈوبے ہوئے شہر کی یادیں اور جذبات۔
صدائے دل—محبت اور احساسات پر مبنی شاعری۔
سنہری زندگی—امید اور خوشی کا پیغام۔
قطرہ قطرہ سمندر—خیالات کا ایسا مجموعہ جو سمندر کی مانند گہرائی رکھتا ہے۔
مقصد اور وژن
ایم ایم آسی کا یقین ہے کہ ادب معاشرے کو بدلنے، ثقافت کو محفوظ رکھنے اور نوجوان نسل کو مثبت سمت دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ آپ کا مقصد نوجوانوں کو تعلیم، تخلیقی سوچ اور اخلاقی اقدار کی طرف راغب کرنا ہے، خاص طور پر اردو زبان کے ذریعے۔
خدمت کا ورثہ
ادب کے ساتھ ساتھ آپ نے اپنی زندگی عوامی خدمت، صحافت اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے وقف کی۔ آپ کی تحریریں اور خدمات دلوں پر دیرپا اثر چھوڑتی ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔